شمالی کرناٹک بند کامیاب ہونے کادعویٰ بشمول بنگلور شمالی کرناٹک کے متعدد شہروں میں لاٹھی چارج۔ سدارامیا اور ایڈی یورپا کے پتلے نذرآتش
بنگلورو،27/دسمبر(ایس او نیوز) ریاست میں حکمران کانگریس اپنے ذاتی فائدہ کی خاطر مہادائی آبی تنازعہ کا استعمال کررہی ہے۔ ریاستی بی جے پی نے آج یہ الزام لگاتے ہوئے شہر میں کے پی سی سی دفتر کے روبرو کانگریس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس سلسلہ میں پولیس نے بشمول سابق نائب وزیر اعلیٰ آ ر اشوک، رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے، بی جے پی لیڈر اروندلمباولی، کئی بی جے پی لیڈروں کو حراست میں لے کر بعد میں رہا کردیا۔مہادائی آبی تنازعہ پر پچھلے5دنوں سے جاری کسانوں کی ہڑتال آج دو قومی پارٹیوں کے درمیان ہونے والی رسہ کشی کی بھینٹ چڑھ گئی۔شہر کے ملیشورم میں بی جے پی دفتر کے روبرو پچھلے 5دنوں سے جاری دھرنا کسانوں نے آج ختم کرکے اپنے آبائی شہر واپس جانے کافیصلہ کیاہے ۔ اس دوران بشمول بی جے پی لیڈر ، ورکرس اور مظاہرین میں سے منتخب لیڈروں نے کانگریس بھون کے روبرو احتجاج کیا۔ یہ احتجاج شوبھا کرندلاجے اوراروند لمباولی کی قیادت میں کیا گیا۔ بی جے پی لیڈروں اور ورکرس نے کانگریس بھون میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس نے بی جے پی کارکنوں کے احتجاج کے جواب میں کانگریس بھون کے روبرو احتجاج کرنے و الے این ایس یو آئی کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا ۔ اس دوران بی جے پی لیڈر آر اشوک معمولی طور پر زخمی ہوگئے ۔انہیں اسپتال لے جا کرمرہم پٹی کی گئی۔ بی جے پی کے سینکڑوں کارکنوں کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ ان کی نقل و حرکت پر پابندی کے لئے لگائے گئے بیریکٹس نکال کر شہر میں کے پی سی سی دفتر میں زبردستی گھسنے کی کوشش کررہے تھے۔
وزیراعلیٰ کاردعمل:کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مہادائی پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر کسانوں کے جاری احتجاج سے حکمراں جماعت کانگریس سیاسی فائدہ حاصل نہیں کرے گی۔انہو ں نے کہا کہ کسان احتجاج کررہے ہیں کیوں کہ بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا اپنے وعدہ کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ میری حکومت اس مسئلہ کے حل کے لئے اپنے طور پر مکمل کوشش کررہی ہے ۔بی جے پی کے ریاستی سربراہ ایڈی یورپا بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اور گوا کے وزیراعلیٰ منوہر پاریکر کو اس مسئلہ کے حل کے لئے ترغیب دینے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ کے پی سی سی کے دفتر کے سامنے جوابی احتجاج میں بی جے پی کے کارکنوں نے حصہ لیا۔ ان کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا رکن شوبھا کرندلاجے نے الزام لگایا کہ کانگریس غیر ضروری طور پر بی جے پی کوموردالزام ٹہرارہی ہے حالانکہ اس کے لیڈر تقریباً 3دہائی قدیم اس مسئلہ کے حل کے لئے بہتر کوشش کررہے ہیں۔حکمران کانگریس پارٹی بی جے پی کے خلاف احتجاج کے لئے کسانوں کو اشتعال دلارہی ہے ۔ کانگریس نے بی جے پی کے ریاستی دفتر کے سامنے احتجاج کرنے کے لئے کسانوں کو اجازت دی ہے ۔ یہ احتجاج گزشتہ4دنوں سے کیاجارہا تھا تاہم آج دن میں بی جے پی کے کارکنوں کو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر آنے سے روک دیا گیا۔یہ کارکن عوام کو حقیقت بتانے کے لئے آنا چاہتے تھے ۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان وسابق وزیر اروند لمباولی نے کہا کہ بی جے پی لیڈر بشمول ایڈی یورپا،قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اور گوا کے وزیراعلی منوہر پاریکر سے بات چیت کرتے ہوئے اس مسئلہ کے فوری حل کی ضرورت کے لئے انہیں ترغیب دی تاہم کانگریس پارٹی اصل خاطی ہے جو بی جے پی اور اس کے لیڈروں کو مورد الزام ٹہرارہی ہے ۔اسی دوران حکام نے راج بھون میں گورنر واجو بھائی والا سے ملاقات کے لئے احتجاجی کسانوں کے صرف 4ارکان کو ہی اجازت دی۔راج بھون تک 400سے زائد احتجاجی کسانوں نے خاموش مارچ نکالا۔کسان ایکشن کمیٹی سابق وزیراعظم و جے ڈی ایس کے قومی صدر ایچ ڈی دیوے گوڈا اور وزیراعلیٰ سدارامیا سے اپنے اس مارچ کے اختتام سے پہلے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ شہر میں لا اینڈ آرڈر کی برقراری کے لئے پولیس کا بھاری بندوبست کیا گیا تھا ۔
شمالی کرناٹک میں بند۔بس خدمات متاثر: کالسا ۔ بنڈوری نالہ ہوراٹا سمیتی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے کی گئی بند کی اپیل پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے کیو ں کہ آج شمالی۔ کرناٹک اور بمبئی ۔ کرناٹک کے علاقے کے بیشتر اضلاع میں زندگی مفلوج رہی۔اس بند کی اپیل مہادائی دریا کے پانی کی حصہ داری پر پارٹی کے ریاستی صدر و سابق وزیراعلی بی ایس ایڈی یورپا کے ریمارکس پر ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں بی جے پی کے دفتر کے سامنے 4دنوں سے احتجاج کرنے والے کسانوں نے کی تھی۔ ممبئی اور بنگلورو کے درمیان قومی شاہراہ پر ٹریفک شدید طور پر متاثر رہی کیو ں کہ سڑک کے کنارے سینکڑوں گاڑیوں کو ٹہرادیا گیااور سڑک پر بیٹھ کر مظاہرین نے شاہراہ کا راستہ روک دیا۔ احتجاجیوں نے کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیااور بی جے پی کے ریاستی صدر ایڈی یورپا کے پتلے نذر آتش کئے ۔اس شاہراہ پر بیشتر مقامات پر ٹائر بھی جلائے گئے ۔ تعلیمی اداروں نے تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ دکانات اور تجارتی ادارے بند رہے ۔ ٹرانسپورٹ خدمات بھی محدود رہیں ۔ گوا اور کرناٹک کے درمیان بس خدمات متاثر رہیں۔احتجاجیوں کے تشدد کے خوف سے بس خدمات معطل کی گئیں۔ ریاستی دارالحکومت میں بی جے پی کے کارکنوں نے سدارامیا حکومت کی مخالف کسان پالیسیوں کے خلاف کانگریس کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا۔ ہبلی سے موصولہ اطلاعات میں کہا گیا کہ بیشتر احتجاجی تنظیموں بشمول 4اضلاع کے کسانوں کی جانب سے کی گئی بند کی اپیل پر یہ بند مکمل رہااور تقریباً تمام شہروں و مواضعات میں ٹریفک متاثر رہی۔گدگ ،دھارواڑ،باگل کوٹ اور بیلگاوی اضلاع جو مہادائی دریا کے پانی سے استفادہ کرتے ہیں ،میں احتجاج کامیاب رہا۔ ہبلی میں کسانوں نے جلوس نکالا اور کتورو چنما سرکل پر جمع ہوئے جہاں انہو ں نے مرکزی،ریاستی حکومتوں ،بی جے پی اور کانگریس پارٹیوں کے خلاف نعرے لگائے ۔دریائے مہادائی پر کالا سا ۔ بنڈوری ڈائیورژن پروجیکٹ سے پانی سے استفادہ کے لئے تقریباً دو سال تک احتجاج کے باوجود تعاون نہ کرنے پر یہ نعرے بازی کی گئی۔ بیلگاوی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کسانوں نے شہر کے بیشتر مقامات پر احتجاج کیا۔احتجاجیوں نے سنٹرل بس اسٹینڈ کے قریب ٹائروں کو آگ لگادی اور مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اس علاقہ کے کسانوں کو پینے کے پانی کے مقصد کے لئے دریا سے پانی حاصل ہو۔بیشتر تنظیموں کے لیڈروں جنہوں نے بند کی اپیل کی تھی ' موجودہ صورتحال کے لئے حکمران جماعت کانگریس اور بی جے پی کو ذمہ دار ٹہرایا ۔ انہو ں نے سیاسی لیڈروں پر زور دیا کہ وہ عوام بالخصوص پانی اور اراضی کے استعمال سے متعلق مسائل پر جذبات سے کھلواڑ نہ کریں۔انہو ں نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے خلاف ان کا احتجاج ان کو انصاف ملنے تک جاری رہے گا۔ نارتھ ویسٹ کرناٹک روڈ ٹرانسپورٹ کمپنی (این ڈبلیو کے آر ٹی سی ) بیلگاوی ضلع کے کنٹرولر گنیش راتھوڑ نے میڈیا کو بتایا کہ مہاراشٹرا ،گوا اور کرناٹک کے دیگر حصوں تک بس خدمات احتجاج کے سبب معطل کردی گئی ہے ۔گوا اور مہاراشٹرا سے کئی مسافر جو یہاں آئے ہوئے تھے اس احتجاج کے سبب پھنس گئے کیوں کہ وہ اس احتجاج سے واقف نہیں تھے ۔ کادمبے ٹرانسپورٹ کارپوریشن گوا کے ذمہ داروں نے کہا کہ بیلگاوی سے گوا تک چلائی جانے والی 12بسوں کی خدمات سے دستبرداری اختیار کی گئی ہے ۔ضلع انتظامیہ نے رام درگ ،ساوادتی اور بیل ہونگل میں تعطیل کا اعلان کیا۔ یہ تعطیل احتیاطی اقدام کے طور پر دی گئی۔بنگلورو میں احتجاج کرنے والے کسانوں نے راج بھون تک ریلی نکالنے بی جے پی کی معذوری پر اپنے احتجاج کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
سدارامیا سنجیدہ نہیں:دھارواڑ میں سینکڑوں افراد الوری وینکٹ راو سرکل پر جمع ہوئے اور کانگریس و بی جے پی کی حکومتوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی جماعتیں کسانوں اور عوام کے جذبات سے کھیل رہی ہیں۔ ان کی آواز کو نہیں سنا جارہا ہے اور انہوں نے اپنے کان جان بوجھ کر بند کرلئے ہیں۔گدگ میں احتجاجیوں نے ربر کے ٹائر جلائے ۔ گدگ کا مکمل شہر سوائے احتجاجیوں کے سنسان نظر آرہا تھا۔ انہوں نے تجارتی اداروں کو بند کرنے پر مجبور کیا۔ شہر میں ٹریفک کی کوئی نقل و حرکت نہیں دیکھی گئی۔گدگ شہر میں اس احتجاج کو کافی سنجیدگی سے لیا گیا۔ ٹائروں کو جلانے والے برہم ہجوم کو قابو میں کرنے کے لئے پولیس کو مشکل صورت حا ل کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی بھی ناگہانی واقعہ سے نمٹنے کے لئے آگ پر قابو پانے والی فورسس کو رکھا گیا تھا۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ ناول گند ٹاون میں بھی بند مکمل رہا۔ کسانوں اور دیگر احتجاجیوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے جلوس نکالا ۔انہو ں نے دونوں حکومتوں کے پتلے جلائے اور ا لزام لگایا کہ سدارامیا اس مسئلہ کے حل میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ گدگ ضلع کے نارگند ٹاون میں بھی کشیدگی دیکھی گئی ۔ ہزاروں کسان شہر کے اہم مقام پر جمع ہوئے اور جلوس نکالا۔انہو ں نے گاڑیوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا اور ہبالی۔ وجے پورہ ہائی وے پر گاڑیوں پر پتھر بازی کی۔ ان کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے احتجاجی افراد پر ہلکی طاقت کا استعمال کیا۔شمالی کرناٹک کے علاقوں میں سدارامیا اور ایڈی یورپا کے پتلے نذرآتش کئے گئے ۔